اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ بحرین کی جیلوں میں قید دینی علمائے کرام نے جیل حکام کی جانب سے مبینہ توہین آمیز سلوک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے وکلا سے ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، جیل انتظامیہ نے ان علمائے کرام کو وکلا سے ملاقات کے لیے منتقل کرتے وقت ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کی کوشش کی، جس پر تمام قید علماء نے اجتماعی طور پر اعتراض کیا۔
رپورٹ کے مطابق، علمائے کرام نے مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس اقدام کو مسترد کر دیا اور ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کی حالت میں وکلا سے ملاقات کے لیے جیل سے باہر آنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانونی مشاورت اور وکیل سے ملاقات ان کا بنیادی حق ہے، جسے توہین آمیز رویے یا غیر ضروری پابندیوں سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ قید علمائے کرام ان اقدامات کو بحرین کی جیلوں میں دینی شخصیات، فکری رہنماؤں اور سیاسی مخالفین پر مسلسل دباؤ ڈالنے کی پالیسی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس طرزِ عمل کا مقصد انہیں اپنے قانونی حقوق سے محروم کرنا اور اپنے دفاع کے عمل میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔
آپ کا تبصرہ